ارے ناخداؤ ارے ناخداؤ

Poet: توقیر اعجاز دیپک By: توقیر اعجاز دیپک, جھنگ

ارے ناخداؤ ارے ناخداؤ
کدھر لے چلے ہو وطن کی یہ ناؤ

کہ آگے تو ہر سو بھنور ہی بھنور ہیں
کوئی آ کے اس کو کنارے لگاؤ

ہو مقروض چاہے یا کنگال مِلت
تمھیں کیا تم اپنے اثاثے بناؤ

جِدَھر دیکھو بربادیاں ہی مچی ہیں
خدارا کچھ آنکھوں سے پَٹّی ہٹاؤ

تمھارے نشیمن کہیں اور ہیں تو
ہمارے لئے نہ جہنم بناؤ

یہاں سچ کی آواز جو بھی اٹھاۓ
اسے راستے سے نہ ایسے ہٹاؤ

بنو جس قَدَر چاہے فرعون لیکن
وِجے ہو گی حق کی یہ تم جان جاؤ

Rate it:
Views: 411
12 Jun, 2024
More Political Poetry