از خاک نشیں کے دامن توُ کاش دل کے قریب ہوتا
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiاز خاک نشیں کے دامن توُ کاش دل کے قریب ہوتا
ہم احساس دل اعزاز کرتے اور درد رکھتے خود مجبوُر کیلئے
آج بھی حسرتوں کے آغاز میں افسردگی کا طوفان مل گیا
پلکوں کو کبھی نیند نہ چبھی اُس حسن مغروُر کیلئے
مقدس حکایتیں اور بھی تھی کوئی اپنا ہوتا تو کہہ بھی دیتے
ہر نظارہ یہ کہتا ہے کہ ہم تخلیق ہوتے بھی دورُ کیلئے
تھے وفا کے عادی تو مشقت کی قیمت ہی نہ مل سکی
کبھی یہ بھی نہ سوچا کہ اب کہ بدلیں زمانہ دستوُر کیلئے
وہ اپنی رنجشوں سے زندگی تنگ کر بیٹھے تو کہدیا
تمہاری حیات ہم جیئیں گے اور اگلا جنم بھی حضوُر کیلئے
ہم نے زباں پہ جو مہر لگادی تو ہر رات اماوس ہوگئی
شاید کچھ لوگ جیتے ہیں عشق جرم عبوُر کیلئے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






