اس الزامات کی بوچھاڑ سے تو مجھے آزاد کر
Poet: شفق کاظمی By: Shafaq kazmi, Karachiاس الزامات کی بوچھاڑ سے
تو مجھے آزاد کر شفق
میرا کوئی قصور نہیں
مجھے تجھ میں کوئی چاہ نہیں
تجھے مجھ سے کوئی چاہ نہیں
نا میں تیری
نا تو میرا
بس
ایک سوچ عقل سے پھسل گئی شفق
مجھے یاد تھی کے بدل گئی
اک سوچ میں گم ہوں تیری دیوار سے لگ کر شفق
میرے دل کے ٹکڑے تیری وقت
گزاری تھی
میری زندگی کا سوال تھا
تو میرا نہیں نا سہی
تجھے تیری زندگی مبارک
تجھے تیری نئی محبت مبارک
مجھے آزاد کر خود کی یادوں سے
مجھے آزاد کر خود کے جھوٹے وعدوں سے
میرا تیرے سوا کوئی نہیں
تو میرا ہمدم تو میرا ہمدرد تو ہی میرا ہمسفر
مجھے اٹھا اس نیند سے مجھے
مجھے بتا میرے دل کے ٹکڑے تو میرا نہیں
یہ تیری وقت گزاری تھی
وہ جو تو نے دیکھائے
وہ جھوٹے وعدے تھے
تیری وقت گزاری کے لئے مجھے بتا
اور مجھے آزاد کر
مجھے معاف کر
اس الزامات کی بوچھاڑ سے تو مجھے آزاد کر شفق
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔






