اس جہاں میں پیار مہکے زندگی باقی رہے
Poet: دیومنی پانڈے By: Rehan, Kolkataاس جہاں میں پیار مہکے زندگی باقی رہے
یہ دعا مانگو دلوں میں روشنی باقی رہے
آدمی پورا ہوا تو دیوتا ہو جائے گا
یہ ضروری ہے کہ اس میں کچھ کمی باقی رہے
دوستوں سے دل کا رشتہ کاش ہو کچھ اس طرح
دشمنی کے سائے میں بھی دوستی باقی رہے
دل کے آنگن میں اگے گا خواب کا سبزہ ضرور
شرط ہے آنکھوں میں اپنی کچھ نمی باقی رہے
عشق جب کریے کسی سے دل میں یہ جذبہ بھی ہو
لاکھ ہوں رسوائیاں پر عاشقی باقی رہے
دل میں میرے پل رہی ہے یہ تمنا آج بھی
اک سمندر پی چکوں اور تشنگی باقی رہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






