اس رات کی پھر ایک سحر ڈھونڈ رہے ہیں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, Malaysiaاس رات کی پھر ایک سحر ڈھونڈ رہے ہیں
ہم خود کو گنوا کر بھی اگر ڈھونڈ رہے ہیں
ہم اپنے ستاروں کے مقدر کو بدلنے
پھر چاند کی دنیا میں نگر ڈھونڈ رہے ہیں
اس عمر میں ہم کو بھی ہے چھاؤں کی ضرورت
دنیا میں محبت کا شجر ڈھونڈ رہے ہیں
اس شام کی دنیا کے اندھیروں سے نکل کر
ہم رات کے راہی ہیں سحر ڈھونڈ رہے ہیں
ہے کوئی ادا کر دے ہمیں پیار کی دولت
دھرتی پہ وفاؤں کا نگر ڈھونڈ رہے ہیں
جو اپنی نگاہوں سے ہمیں جام پلا دے
میخانے میں ایسی وہ نظر ڈھونڈ رہےہیں
پھر کوئی صدا اپنے تعاقب میں ہے وشمہ
جب اپنی وفاؤں کا اثر ڈھونڈ رہے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






