اس سال کا جواب تو سارا نہ کر ابھی
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاپنچھی چمن کا اب بھی تقاضہ نہ کر ابھی
تجھ پر لکھیں گے وہ بھی فسانہ نہ کر ابھی
اس زیست کے اندھیروں سے مایوس کب ہوں میں
صحنِ وفا میں چاند کا سایہ نہ کر ابھی
تم بھول کر بھی دیکھ لو پھولوں کی باس ہو
کیسے کٹے گی زندگی رسوا نہ کر ابھی
سب بھول جائیں دونوں ہی ماضی کے تذکرے
اس سال کا جواب تو سارا نہ کر ابھی
چلنا ہے میرے ساتھ تو پھر سوچ کر چلو
اس بار اپنے پیار کافسانہ نہ کر ابھی
میں مانتی ہوں زندگی خوابوں میں کٹ گئی
اس کو تو تیرے ہجر میں رسوا نہ کر ابھی
کھڑکی میں چاند آ کے مجھے دیکھتا رہا
آنگن میں روشنی کا اندھیرا نہ کر ابھی
اک شخص میری آنکھ میں ٹھہرا رہا مگر
دیکھا جو آج غور سے تنہا نہ کر ابھی
وشمہ یہ وصل یار کے سب خواب چھوڑ کر
دل کی زمیں پہ ہجر کواپنا نہ کر ابھی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






