اس شجر کا کبھی سایہ نہ ثمر دیکھا ہے
Poet: Ibn.e.Raza By: Ibn.e.Raza, Islamabadاس شجر کا کبھی سایہ نہ ثمر دیکھا ہے
عشقِ بے مہرکی نذرسب کر دیکھا ہے
آگ کا دریا ہےکہیں کانٹوں بھری راہیں
ہررستہ ہی الفت کا پُر خارو خطر دیکھاہے
خزاں چھین لیتی ہے جیسے گلستاں کے رنگ
ہنستے ہوئے چہروں کو یوں چشمِ تر دیکھا ہے
کسی اور ٹھکانے پر اب دل ہی نہیں لگتا ہے
گستاخ نگاہوں نے جب سے تیرا در دیکھا ہے
زمانے بھر سے الجھتا رہا ہوں میں تن تنہا
ہرشخص کے ہاتھوں میں پتھر دیکھا ہے
تیری موجوں کے طلاطم سے اب ڈرنہیں لگتا
اے سمندر میں نے تیرا ہر بھنور دیکھا ہے
تیرے غم نے میرے فن کو جِلا بخشی ہے
میں نے جاگتی آنکھوں خود کو سُخن ور دیکھا ہے
گر ہو سکے تو میرا تماشہ ء قہر بھی دیکھو
اے ستم گر تونے میرا صبر دیکھا ہے
وصال ِ یار کی نہ اک لمحہ کبھی نوبت آئی
زندگی میں کچھ دیکھا ہےتو ہجر دیکھا ہے
عشق نے یہ معجزہ بھی دکھایا ہے رضا
نگاہ ِ یارمیں عقیدت کو منور دیکھا ہے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






