اس طرح دل پہ کوئی اثر کردے
Poet: Syed Ishtiaq Hussain Kazmi By: Syed Waqas Shah, rawalpindiاس طرح دل پہ کوئی اثر کر دے
جیسے اک جادو کوئی جادوگر کر دے
کہکشاں چاند ستارے اے حسین قوس قزح
اتر کر اک بار تاج محل میرا گھر کر دے
دل تو پاگل ہے دیوانہ ہے کچھ سمجھتا نہیں
اس کا کوئی چارہ اے میرے چارہ گر کر دے
اس کی آنکھوں میں گرتے ہیں سمندر کتنے
مجھ کو بھی میرے خدایا کوئی سمندر کر دے
اس سے پہلے کہ وہی لمحہ مجھے چھین لے تم سے
مجھ پہ جلدی سے الفت کی کوئی نظر کر دے
اب وہ جذبات میں پہلے سی گرمی کہاں
آکے چپکے سے پھر تازہ خون جگر کر دے
اس سے پہلے کہ میں کھو جاؤں تاریک اندھیروں میں
تو ہو کر طلوع میری ہر شام سحر کر دے
سبھی انسان ہو جائیں پیروکار اس کے اشتیاق
عشق مذہب ہے وہ دعویٰ اگر کر دے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






