اس طرح سےکیو ں چلےگئے
Poet: Humaira akram By: HUMAIRA AKRAM, LAHOREاس طرح سےکیو ں چلےگئے
تم نے ساتھ چلنے کو کہا تھا نہ
تمھارے سا تھ تو چلی تھی میں
تمھارے ہر قدم بہ قدم سے ہی
کبھی گر تی بھٹکتی سنبھلتی تھی میں
مجھے تم نے بہت آزمایا تھا
اورہر آزمائش پہ اترتی تھی میں
بہت ہی عجیب سا تھا واسطہ
تمھیں سب کچھ ہی تو سمجھتی تھی میں
میری اک ناراضگی پہ تم
مجھے منانے تک نہ آ سکے
ابھی بھی وہی حیرا نگی میں گم ہوں میں
تم مجھے کیسے روندتے چلے گئے
دئکھو مجھے خود پے کیسا ناز تھا
پلٹ کر ضرور تم آؤ گے
پھر نہ تم پلٹ سکے نہ میں سنبھل سکی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







