اس عشق نے بھی کیا سے کیا کر دیا
Poet: By: AF(Lucky), Saudi Arabiaاس عشق نے بھی کیا
کیا نہیں دیکھایا
کبھی موم سے پتھر بنا کر
شمع کی طرح پگھایا
کبھی پتھر کر کے دیواروں میں چنوایا
یہ عشق کبھی بہہ گیا چناب میں
کبھی کھو گیا ریگستان میں
کبھی چل پڑا قافلوں میں
کبھی سو گیا راستوں میں
کبھی ہار گیا یہ تفرتوں میں
لیکن پھر بھی جیت گیا یہ ازلوں سے
کبھی چلا گیا یہ خوابوں میں
یہ عشق آخر ہے کیا ۔۔۔۔۔۔؟
جو ٹھرا نہیں کبھی کسی کے نصیبوں میں
یہ کیسا روگ لگ گیا لکی
یہ کیسا تیر چل گیا
جو کبھی واپس آ نہ سکا
یہ کیسا منہ سے لفظ نکل گیا
ُاس کی تو نظر بس
ُاٹھ کر جھکی تھی
اور میرا دل نکل گیا
میں واپس آ نہ سکی اپنی دنیا میں
اس عشق نے مجھے کس دنیا کا کر دیا
یوں تو یہ جھکتا ہے ُخدا کے گھر
مگر ُخدا نے بھی اسے
کسی کے دل کا سوالی کر دیا
اس عشق نے بھی کیا سے کیا کر دیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






