اس عشق نے ہمیں چلو اتنا سکھا دیا
Poet: Zeeshan Lashari By: Zeeshan Lashari, Kunriآنکھوں سے عشق اپنا ان کو دکھا دیا
اس عشق نے ہمیں چلو اتنا سکھا دیا
پھر بھی امیدِ وصل نجانے ہے کیوں مجھے
میرا نہیں ہے وہ گو اس نے بتا دیا
آنکھوں سے سحر کر کے ہم کو پلا ہی دی
ویسے نہیں جو مانے تو ایسے پلا دیا
پی کر شراب جو مے خوار گر پڑے
سحرِ نگاہ نے ان کو نچا دیا
یارو جہانِ عشق پہ وہ بادشاہ ہے
جس نے خودیِ یار پہ سب کچھ لٹا دیا
بدلے میں جان اپنی اس کے سپرد کی
ہنس کے جو بے وفا نے ہم کو دکھا دیا
خدایا یہ کبر اس کا کیوں کر گناہ ہو
تونے ہی حسن اس کو بے انتہا دیا
کس کو صنم ملا ہے کہ تجھ کو ملے گا شانؔ
سب عاشقوں نے جیون یونہی گنوا دیا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






