اس عید پر اب تک ُاسے کوئی پیغام نہیں لکھا
Poet: Arooj Fatima(Lucky) By: AF(Lucky) , K.S.Aاے ہمیشہ مجھے رات لکھنے والے
میں نے اب تک تجھے شام نہیں لکھا
جو تیرے دل میں شاید ُاتر جائے
میں نے اب تک وہ کلام نہیں لکھا
خط میں کر دیا یوں تو اظہار مگر
تیری ُرسوائی کے ڈر سے اب تک تیرا نام نہیں لکھا
کیوں وہ ہر بار مجھے الوادع کہہ دیتا ہے
میں نے تو اب تک ُاسے پہلا سلام نہیں لکھا
چھوڑ دیا ہے ُاسے ُسپردیے خدا کر کے
اس عید پر اب تک ُاسے کوئی پیغام نہیں لکھا
قلم میں سیاہی ہے کہ خون تم نہیں سمجھو گئے
پیاسے نے اب تک آخری جام نہیں لکھا
وہ چل رہی ہے کشتی ، تم کہو تو ڈوبو دوں
میں نے اب تک ادھورہ کوئی کام نہیں لکھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






