اس نے آنچل کو ہٹایا تو قسم ٹوٹ گئی
Poet: Sayed Assad Ullah By: Sayed Assad Ullah, Swabiاس نے آنچل کو ہٹایا تو قسم ٹوٹ گئی
میں نے نظروں کو ملایا تو قسم ٹوٹ گئی
اِک ادا سے جو ھوئے مجھ سے تُو ناراض صنم
جیسے ہی تجھ کو منایا تو قسم ٹوٹ گئی
جبکہ دل پے بھی بھروسہ نہ رہا مجھ کو ابھی
دل کو دل سے جو لگایا تو قسم ٹوٹ گئی
اُس نے پوچھا کہ مجھے ٹوٹ کے چاھا تو نہیں!
رُخ پہ اشکوں کو بہایا تو قسم ٹوٹ گئی
منکرِپیار کو ساقی کی طرح اُس نے وہی
جامِ الفت جو پلایا تو قسم ٹوٹ گئی
کیا عجب کھیل تماشا ھے محبت بھی اسد
ہاتھ میں ہاتھ تھمایا تو قسم ٹوٹ گئی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






