اس نے مجھے آئی لو یو کہا
Poet: Roshani By: Roshani, U.A.Eاس نے مجھے آئی لو یو کہا
ابھی کچھ دیر پہلے ہی کہا
مدہم سے
دھیرے سے
کپکپاتی آواز میں
جھکی آنکھوں
شرماتے انداز میں
ہواؤں کے سے
ساز میں
پھولوں کے
مزاج میں
ترنم چھیڑتے
راگ میں
اس نے مجھے آئی لو یو کہا
ابھی کچھ دیر پہلے ہی کہا
ادب سے
جھک کر
میرے دامن
میں چھپ کر
چند لفظوں
میں سمٹ کر
دھیرے دھیرے
رک رک کر
جذبات میں
پگھل کر
اس نے مجھے آئی لو یو کہا
ابھی کچھ دیر پہلے ہی کہا
سرد ہواؤں
کے ساتھ
سوالیہ نگاہوں
کے ساتھ
دل چھین اداؤں
کےساتھ
دلی وفاؤں
کے ساتھ
اس نے مجھے آئی لو یو کہا
ابھی کچھ دیر پہلے ہی کہا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






