اس نے کہاان دنوں ۔۔۔۔۔۔۔
Poet: m.asghar mirpuri By: m.asghar mirpuri, birminghahamاس نے کہا سنا ہے راتوں کو مجھے یاد کر کے روتے ہو
میں نے کہا سنا ہے میری یاد میں تم بھی کم سوتے ہو
اس نے کہا ان دنوں کس سے راہ و رسم ہے
میں نے کہا کسی سے بھی نہیں تمہاری قسم ہے
اس نے کہا میرے بن اب تم کیسے جیتے ہو
میں نے کہا جیسے تم جدائی کا زہر پیتے ہو
اس نے کہا اب تیرا وقت کیسے کٹتا ہے
میں نے کہا تیری یاد سے جگر پھٹتا ہے
اس نے کہا کیا اب بھی مجھ سے محبت کرتے ہو
میں نےکہا کیا تم اسی طرح مجھ پہ مرتے ہو
اس نے کہا میری جان اصغر کیوں نہ یہ دوری مٹا لیں
میں نے کہا آؤ ایک بار پھر ہم تمہیں گلے سے لگا لیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






