اس نے ہاتھوں میں جب لے لیا آئنہ
Poet: شہباز By: شہباز, Karachiاس نے ہاتھوں میں جب لے لیا آئنہ
سامنے آئنے کے ہوا آئنہ
ان کے دست ہنر کا یہ اعجاز ہے
ایک پتھر تھا میں ہو گیا آئنہ
آئنے کی طرف سے وہ گزرے تھے بس
دیر تک ان کو تکتا رہا آئنہ
حسن پر اس کو اپنے تھا اتنا گماں
زندگی بھر بدلتا رہا آئنہ
حال دل اس پہ یوں منکشف ہو گیا
میرا چہرہ ہی جب ہو گیا آئنہ
زندگی کا یہی ان کی عنوان ہے
آئنہ آئنہ آئنہ آئنہ
جھوٹ کو جھوٹ سچ کو جو سچ کہہ دیا
سنگ باری کی زد میں رہا آئنہ
جو اٹھاتے ہیں تم پر سدا انگلیاں
تم بھی ان کو دکھا دو ذرا آئنہ
عشق و الفت کی دانشؔ یہ معراج ہے
میں ترا آئنہ تو مرا آئنہ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






