اس پر لگی بہار کو کب تک میں دیکھتی

Poet: By: وشمہ خان وشمہ, منیلا

اس پر لگی بہار کو کب تک میں دیکھتی
اک اجنبی کے پیار کو کب تک میں دیکھتی

پھولوں کے درمیان تو زندہ نہ رہ سکی
پاؤں میں چھبتے خار کو کب تک میں دیکھتی

وہ دور سے چلا گیا آنکھوں کو چوم کر
سانسوں کے انتشار کو کب تک میں دیکھتی

ڈسنے لگے تھے شام کو تنہائیوں کے غم
دل میں غموں کے غار کو کب تک میں دیکھتی

اک جس میں تیرے لمس کا شامل نہ ہو وجود
اُس رونقِ بازار کو کب تک میں دیکھتی

ساتھی تمہارے پیار کے رنگوں سے کھیل کر
اس گرد کوِ غبار کو کب تک میں دیکھتی

اس شہر میں تو پوچھنے والا نہ تھا کوئی
وشمہ ترے دیار کو کب تک میں دیکھتی

Rate it:
Views: 382
30 May, 2023
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL