اس کو اٹھا کے وشمہ رکھ لوں کتاب دل میں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملائیشیادے کے مجھے وہ دل اب احسان بولتا ہے
اس کے ذہن میں کیسا انسان بولتا ہے
شک و شبہ ہے مجھ کو ہواؤ ذرا بتانا
میرے علاوہ کس کو وہ جان بولتا ہے
فصلِ بہار میں تو سنتے نہیں کسی کی
رہتے نہیں ہیں گل تو گلدان بولتا ہے
مسند نشیں جو دل میں مدت سے چپ رہا ہے
کیوں آج میرے گھر کا مہمان بولتا ہے
خوشیوں کی انتہا ہے اس ماہ رو سے مل کر
آنکھوں میں خواہشوں کا سامان بولتا ہے
اس کو اٹھا کے وشمہ رکھ لوں کتاب دل میں
مجھ کو جو زندگی کا عنوان بولتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






