اس کو کیا کہئے
Poet: AzharM By: AzharM, Dohaمحبت تو محبت ہے، نہیں پہلی، نہیں دوجی
محبت کی نہیں جاتی، مگر ہونی کو کیا ٹالیں
تمنا سے یا خواہش سے کبھی حاصل نہیں ہوتی
محبت کا قرینہ ہے، کبھی پوچھے نہیں آتی
جب آ جائے یہ مرضی سے تو پھر کوٹھے پہ چڑھ جائے
کرو پھر لاکھ کوشش بھی محبت رُک نہیں سکتی
اسے روکو اگر تو زہر جھٹ سے پھانک لیتی ہے
ہوا کے راستوں پر کوئی پہرہ کیا لگائے گا
کرو کچھ بھی مگر اظہر محبت جھانک لیتی ہے
محبت ہو اگر بار دگر تو اس کو کیا کہئے؟
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






