اس کی آنکھوں میں کوئی خواب ہمارا بھی نہیں
Poet: zain shakeel By: zain shakeel, gujratاس کی آنکھوں میں کوئی خواب ہمارا بھی نہیں
اور پلکوں پہ کوئی چاند اتارا بھی نہیں
اتنی وحشت میں بچھڑنے کی گھڑی آ پہنچی
اس نے دیکھا بھی نہیں، ہم نے پکارا بھی نہیں
یہ مرا دل جو عقل مند بنا پھرتا ہے
آج تک اس نے کوئی کام سنوارا بھی نہیں
کون تعبیر نکالے گا مرے مطلب کی
اس کے ملنے کا تو خوابوں میں اشارہ بھی نہیں
اس کی گلیوں میں تو ہم چاند لیے پھرتے تھے
اب تو ہاتھوں میں کوئی ایک ستارہ بھی نہیں
تم سے ملنا تو بہر حال ہمیں ہے لیکن
اس قدر بھیڑ میں یہ ہم کو گوارہ بھی نہیں
جانے کس طور سے کھیلا وہ مرا دشمنِ جاں
زین ہم جیت گئے اور وہ ہارا بھی نہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






