اس کی جدائی
Poet: M.Asghar By: M.Asghar, BIRMINGHAMآج بھی گھڑی جب شام کے سات بجاتی ہے
پھر مجھے ایک بچھڑے دوست کی یاد ستاتی ہے
میری نظر گھڑی کی سوئیوں پہ جم جاتی ہے
میرے لیے وقت کی رفتار تھم جاتی ہے
میں پرانی یادوں میں کھو جاتا ہوں
یہ سوچتے سوچتے اداس ہو جاتا ہوں
اس کی یادیں میرے ذہن سےجاتی نہیں
اور وہ مجھے بھول پاتی نہیں
شام کے سات بجتے ہی کسی کو حال دل سناتا تھا میں
اس کی جدائی میں کیسے دن بیتا اسے بتاتا تھا میں
آج بھی جب شام کے سات بجنے لگتے ہیں
میرے ہاتھ بےساختہ فون کی جانب بڑھنے لگتے ہیں
کیسے بتاؤں تیری جدائی میں تیرا دوست کتنا اداس ہے
جان سے پیارے دوست کیا تجھے اس بات کا احساس ہے
پھر سوچتا ہوں میرا حال سن کر کہیں وہ ادس نہ ہو جائے
میری روداد شاید اس کی روح کو اذیت پہنچائے
میں خود تو دکھ سہہ لوں گا
مگر اسے نا اداس ہونے دوں گا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







