اس کی ہنسی سے چاروں طرف پھول کھل گئے
Poet: dr.zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanالفت کا دعوے دار ہے رکھتا بھی ہے انا
اس کا یہی انداز تو اچھا مجھے لگا
ایسے ملا ہے زیست میں وہ جیسے پوری ہو
رو رو کے رب سے کعبے میں مانگی ہوئی دعا
اس کا کمال ذہن وہ سب کچھ سمجھ گیا
خاموشیوں میں ڈوبی ہوئی تھی مری صدا
گھائل کیا تھا جس نے مرے دل کو پہلی بار
اب تک ہے یاد مجھ کو وہ شوخی بھری ادا
اس کی ہنسی سے چاروں طرف پھول کھل گئے
چھو کر بدن کو اس کے مہکنے لگی ہوا
وہ حسن بے مثال جو آ جائے چمن میں
زاہد اسے گلاب بھی کہتے ہیں مرحبا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






