اس کی یادوں میں کسی کی پرچھائی سی لگتی ھے
Poet: M.Z By: M.Z, karachiاس کی یادوں میں کسی کی پرچھائی سی لگتی ھے
یہ دنیا شاید اسے پرائی سی لگتی ھے
رھتا ھے بھیڑ میں بھی سب سے جدا وہ
اسے پیاری بس اپنی تنھائی ھی لگتی ھے
گیھرا ھے زخم کوئی دل میں اس کے
کئی باتیں اس میں چھپائی لگتی ھے
مسکراھٹ رھتی ھے اس کے ھونٹوں پر ھمیشہ
لیکن آنکھیں جیسے خوشی سے بیگانی لگتی ھے
بانٹتا نھیں اپنا درد وہ کسی سے کبھی
پر اس کی آواز کئی احساس کھتی سی لگتی ھے
چپ ھو جاتا ھے اکثر کچھ کھتے ھوئے
خاموشی اس کی مگر اک کھانی سی لگتی ھے
جیتا ھے اپنوں کے لئے ھی آج بھی لیکن
زندگی اس کی شاید کھیں اور ھی رھتی ھے
یہ راز وہ خود نہ بھی کھے کسی سے
اس کی شعری اس کے دل کا ھر قصہ بیان کرتی ھے
جانا ھے اس نے قریب سے دیکھا نھیں کبھی
لیکن اس کی دھڑکن کچھ اپنی سی لگتی ھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






