اسرارِ محبت کا میں بوسیدہ محل ہوں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیااسرارِ محبت کا میں بوسیدہ محل ہوں
جو آج بھی زندہ ہے وہ گزرا ہوا کل ہوں
کچھ لوگ تصور میں پڑھا کرتے ہیں مجھ کو
شاید میں کسی میر یا غالب کی غزل ہوں
میں خواب کی صورت ہوں سدا یاد رہوں گی
تاریخ کے اوراق پہ اک تاج محل ہوں
سوکھے ہوئے دریا کے کنارے پہ ہوں زندہ
میں ریت کے ذروں پہ بھی ،صحرا میں بھی جَل ہوں
گجرا ہوں وفاؤں کا مجھے سر پہ سجا لے
اے زیست ترے پیار کے گلشن کا کنول ہوں
سانسوں کے جزیرے پہ جو پانی کی کمی ہے
وشمہ تری دنیا کا میں روکا ہوا پل ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






