اسکے لب و رخسار کو کہتے ہیں زندگی
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillہر انگ سے اک رنگ نیا پھوٹ رہا ہے
یوں موسم بہار میں اک زخم چھڑا ہے
مدت سے میرے خواب کی تعبیر چرا کے
وہ غیر کے ہاتھوں کی لکیروں میں بسا ہے
پہنچا جو اسکے شہر میں ۔ بولی یہ ہوائیں
شاید سمے کی آنکھ سے اک اشک گرا ہے
ہیں کس کی دسترس میں نہاں منزلوں کے بھید
بھٹکا ہوا خیال کسے ڈھونڈ رہا ہے
پامال ہوا ہوں تو نہیں اس میں تکلف
اے رشک گلستان میرا جرم وفا ہے
اسکے لب و رخسار کو کہتے ہیں زندگی
اسکے دم گفتار میں سانسوں کا پتہ ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






