اسی آگ میں
Poet: rafiq sandeelvi By: rashid sandeelvi, islamabadاسی آگ میں مجھے جھونک دو
وہی آگ جس نے بلایا تھا
مجھے ایک دن
دمِ شعلگی
دمِ شعلگی میرا انتظار کیا بہت
کئی خشک لکڑیوں شاخچوں کے حصار میں
جہاں برگ و بار کا ڈھیر تھا
دمِ شعلگی
مجھے ایک پتے نے یہ کہا تھا گھمنڈ سے
ادھر آ کے دیکھ کھ اس تپیدہ خمار میں
ہمیں ہم ہیں
لکڑیوں شاخچوں کے حصار میں
یہاں اور کون وجود ہے
ہمیں ہم ہیں یہاں رکے ہوئے
کہیں آدھے
اور کہیں پورے پورے جلے ہوئے
دمِ شعلگی ہمیں جو مسرتِ رقص تھی
تمہیں کیا خبر
اگر آگ تم کو عزیز تھی
تو یہ جسم کونسی چیز تھی
جسے تم کبھی نہ جلا سکے
وہ جو راز تھاپسِ شعلگی نہیں پا سکے
سو کہا تھا میں نے یہ ایک ادھ جلے برگ سے
مجھے دکھ بہت ہے کہ آگ نے
میرا انتظار کیا بہت
مگر ان دنوں کسی اور طرز کی آگ میں
میرا جسم جلنے کی آرزو میں اسیر تھا
مگر ان دنوں میں نہ جل سکا
میں نہ جون اپنی بدل سکا
مگر اب وہ آگ کہ جس میں
تم نے پناہ لی
جہاں تم جلے
جہاں تم کھلے
جہاں تم عجیب سی لذتوں سے گلے ملے
اسی آگ میں مجھے جھونک دو
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے







