اسیر جانتا ہے

Poet: رشید حسرت By: رشید حسرت, Quetta

مرض ہے اس میں وہ کمتر، حقِیر جانتا ہے
فقِیر ہو گا جو سب کو فقِیر جانتا ہے

میں اُس کی قید سے آزاد ہو چُکا ہُوں مگر
وہ بے وقُوف ابھی تک اسِیر جانتا ہے

تُمہارا کام اگر ہو کوئی تو حُکم کرو
تُمہیں پتہ ہے؟ مُجھے اِک وزِیر جانتا ہے

ہُؤا ہے پار جو حلقُوم سے یہ اصغر کے
لبوں پہ روتی رہی پیاس تِیر جانتا ہے

اگرچہ شعر کا مُجھ کو سلِیقہ کُچھ بھی نہِیں
شرف ہے ذوق شناسا ہے، مِیر جانتا ہے

لڑاؤں پنجہ تو اب بھی شِکست دُوں اُس کو
عجب جواں ہے مُجھے پِھر بھی پِیر جانتا ہے

سوال کرنا پڑا ہے جو آج مُجھ کو رشِید
بٹا ہُوں ٹُکڑوں میں کِتنے، ضمِیر جانتا ہے

Rate it:
Views: 344
11 Aug, 2022
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL