اسے جب یاد آئیگا وہ پہلی بار کا ملنا
Poet: Seher By: seher mukaty, karachiاسے جب یاد آئیگا وہ پہلی بار کا ملنا
تو پل پل یاد رکھے گا یا سب بھول جائیگا
اسے جب یاد آئیگا گئے موسموں کا ہر لمحہ
تو خود ہی رو پڑیگا وہ یا خود ھی مسکرائیگا
اسے جب یاد آئیگا کہ سردیاں لوٹ آئی ھیں
بلاوا بھیجے گا وہ مجھ کو یا خود ہی لوٹ آئیگا
اسے جب یاد آئیگا میں کیسے مسکراتی تھی
تو آنکھیں مسکرائینگی یا دامن بھیگ جائیگا
اسے جب یاد آئیگا میں کیسے نام لیتی تھی
تو میرا نام لکھے گا یا اپنا بھول جائیگا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






