اشارہ تو کرے
Poet: Syed Zulfiqar Haider By: Syed Zulfiqar Haider, Dist. Gujranwala ; Nizwa, Omanفاصلے سمٹ جایئں گے راستے آسان ہو جائیں گے
وہ پاس آنے کا ہم سے کوئی بہانا تو کرے
ہم کود جائیں گے آگ کے سمندر میں بِن کچھ کہے
ہماری قبر پر آنے کا ہم سے وعدہ تو کرے
اُس کی صورت ہمیشہ کے لئیے آنکھوں میں قید کر لوں
چہرے کی دید دے کر وہ ہم سے تقاضا تو کرے
مسکراہٹ اُس کی دیکھ کر میں چہک سا جاؤں
لبوں پر مُسکرانے کا پیدا سامان تو کرے
اُس کا حصار بن جاؤں زمانے سے چرا لوں
مجھ سے چاہت کا اک بار گمان تو کرے
ہمیشہ اُس کے لبوں کی مسکراہٹ بن کر رہوں گا
رکھ دوں اُس کے قدموں میں سر وہ اشارہ تو کرے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






