اشک بہا کر تجھے بدنام کریں اتنے بھی ہم غافِل نہیں

Poet: نواب رانا ارسلان By: نواب رانا ارسلان, Ismailabad, Umerkot

اشک بہا کر تجھے بدنام کریں اتنے بھی ہم غافِل نہیں
مانا کے کمزوریاں ہیں پر تیرے معاملے میں ہم کاہِل نہیں

زمانے کے سامنے خوش رہنا تو اک بہانہ ہے
ایسا تو نہیں ہے کہ ہم شکستِ دِل نہیں

محبت میں شکستِ دل تو اک لمبی کہانی ہے
یہ نصیب کی بات ہے تُو میری خوشیوں کا کاتِل نہیں

زندگی میں تو ہمیں اِس بات کا ملال رہا
جو چاہا وہ ملا نہیں، جو ملا اُس کے ہم قابِل نہیں

ہم سے ہمارے حال پہ کوئی سوال نہیں پوچھتا
سوال تو بہت ہیں، لیکن کوئی سائِل نہیں

سنو جانا تم خوش تو ہو نہ رقیب کی بستی میں
سُنا ہے وہاں کسی کو کوئی مسائل نہیں

تیرا نام نہیں لیتا ارسلان مگر ایسا بھی نہیں ہے
تیرا ہجر میرے بیانِ سُخن میں نہ ہو ایسی کوئی محفِل نہیں

Rate it:
Views: 876
07 Mar, 2019
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL