اطاعت کسی کی عبادت کسی کی
Poet: م الف ارشیؔ By: Muhammad Arshad Qureshi (Arshi), Karachiوہ بھی دن تھے جب تھی عنایت کسی کی
تھی دل پر مرے بھی حکومت کسی کی
وہ تتلی وہ چڑیا وہ جگنو پکڑنا
بہت خوبصورت تھی حسرت کسی کی
یہ بھی تو نہ سوچا بچھڑنے سے پہلے
وہ بن چکی تھی اب ضرورت کسی کی
گرانے سے پہلے ذرا بھی نہ سوچا
عمارت نہیں تھی محبت کسی کی
یہ کس نے کہا تھا محبت نہیں ہے
شرارت نہیں تھی حماقت کسی کی
چلو آج پھر سے درختوں پہ لکھیں
امانت ہے میری عبارت کسی کی
کوئی درمیاں اپنے آیا ہی کیسے
ہوئی ہے یہ کیسے جسارت کسی کی
کیوں پڑ گئی ہے یوں عادت کسی کی
ہمیں مار ڈالے گی الفت کسی کی
مجھے جس نے چاہا ضرورت تھی جتنی
رہی دل میں اب تو نہ حسرت کسی کی
تماشے محبت کے ہوتے ہیں کتنے
محبت کسی کی تو حسرت کسی کی
خدا تم کو دے گا خزانوں سے اپنے
کرو تم جو پوری یاں حاجت کسی کی
عجب حال ہے شہر کا اب تو ارشیؔ
پڑی ہے کسی پر نحوست کسی کی
بنے ہیں عدو دوست بھی اب یہاں پر
زمیں ہے کسی کی عمارت کسی کی
وہ دیتے ہیں دھوکہ مذہب کو اپنے
اطاعت کسی کی عبادت کسی کی
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






