اظہار
Poet: M.Asghar By: M.Asghar, Birminghamتیرے سوا اور کچھ نہ چاہیے مجھے
مریض محبت ہوں آپ بچائیے مجھے
میری چاہت کو ٹھکرا نہ دینا
غم کو میرا ساتھی بنا نہ دینا
نہ جانے غموں سے کیسےلڑ پاؤں گا
تیری جدائی سے میں تو مر جاؤں گا
اس کی آنکھوں سے اک سمندر جاری ہو گیا
مجھ پر بھی سکتہ سا طاری ہو گیا
جزبات کے سمندر میں وہ بہنے لگی
اپنی سسکیوں کو تھام کر وہ کہنے لگی
تقدیر نے مجھ پر بڑے ستم ڈھائے ہیں
زندگی بھر دکھ ہی دکھ پائے ہیں
سکھ کا ایک سانس تک نہیں لیا میں نے
اس جیون کو اک بوجھ کی مانند جیا میں نے
تیرے سینے میں محبت کا جیسا سمندر ہے
ویسی ہلچل میرے بھی دل کے اندر ہے
سچے پیار کے خواب دیکھے ہیں
زندگی بھر بے حساب دیکھے ہیں
اب تیری زندگی میں آنا چاہتی ہوں
تیرے سوا ہر شے کو بھول جانا چاہتی ہوں
پھر ہم اک دوجے کی بانہوں میں کھو گئے
بے درد دنیا سے بے خبر ہو گئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






