اظہار محبت ہم سے روز کرتی رہتی ہے اور
Poet: مظہر اقبال گوندل By: مظہر اقبال گوندل , Karachi
اظہار محبت ہم سے روز کرتی رہتی ہے اور
آج مجھے روتا چھوڑ کے سیر پر گیؑ ہے
عید کی تیاری خوب چل رہی تھی اس کی اور
آج وہ سنگ غیر کے سمندر پر گیؑ ہے
کہتی تھی کہو تم تو نہیں جاتی میں گھومنے
کیوں روکتا میں اسے جو نہانے سمندر پر گٰیؑ ہے
سولہ برس زندگی کے لوٹانے پر بھی خوش نہیں
اس وقت گزار کا دل بہلانے سمندر پر گیؑ ہے
کچھ دن تو خاموش رہی پر آنکھوں میں کچھ تھ
لگتا تھا دل میں کوئی بات چھپی رہ گئی ہے
ہم جس کے فسانے میں جیتے رہے برسوں
وہ آج کسی اور کی کہانی کہہ گئی ہے
میں خواب سجائے بیٹھا تھا عید کے لمحوں کے
اور وہ میری نیندیں چرا کے ساحل پہ گئی ہے
تصویر میں اب بھی وہ ویسی ہی لگتی ہے
بس آنکھوں کی چمک کسی اور کے نام کی ہے
اب شہر کے رستوں سے دل ڈرنے لگا ہے
جہاں جہاں اُس کے قدموں کی گرد چھپی ہے
دکھ صرف اتنا ہے جانتی تھی کویؑ نہیں ہے میر
پھر بھی وہ غیر کا دل سہلانے سمندر پر گیؑ ہے
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






