اعتراف
Poet: farah ejaz By: farah ejaz, Aaronsburgدیکھ کر اسکی آنکھ میں آنسو
دل بیچارا رویا تھا بہت
نہ نبھا سکا جو عہد وفا
اسی کا غم ستاتا تھا بہت
جیت کر بھی ہار گیا ہوں میں
کچھ اس طرح سے وہ ہارا تھا بہت
میں جانتا ہوں محبت کو مگر
حق الفت اسی نے نبھایا تھا بہت
جسے تنہا چھوڑ کر چل دیا تھا میں
پھر اسے ہی دل نے پکارا تھا بہت
چھوڑ گیا وہ یہ شہر بھی دیکھو
کچھ اس طرح اسے ستایا تھا بہت
ڈھونڈتا ہوں گلی گلی جسے اب
وہی ایک شخص نایاب یہاں تھا بہت
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







