اعترافِ جرمِ مردانگی

Poet: محمد اطہر طاہر By: Athar Tahir, Haroonabad

ہمیں مردانگی نے یہ عجب سوغات بخشی ہے
گلوں کو روندتے جانا دلوں کو توڑتے جانا

چہکتی تتلیوں کو پھولوں کے خواب دکھا کر
اُنہیں دبوچ لینا اور پھر اُن کو نوچتے جانا

اُن پہ عشق جتا کر دلوں میں پیار جگا کر
پروں کو کاٹ لینا اور اُنہیں چھوڑتے جانا

جفاؤں سے وفاؤں تک سارے باب پڑھا کر
نیا رستہ دکھا کر رستہ بند کرنا اور بھولتے جانا

 

Rate it:
Views: 514
29 Feb, 2016
More Sad Poetry