اغیار کے ہاتھوں میں تقدیر لٹا نے سے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیااغیار کے ہاتھوں میں تقدیر لٹا نے سے
میں اپنی ہی خواہش کے سب دیپ بجھا نے سے
ہر سمت مرے اب تو الفت کی بہاریں ہیں
لگتا ہے میں پھر دل کی یہ سیج سجا نے سے
قسمت میں یہ لکھا تھا ، پچھتانے سے کیا حاصل
افسوس محبت کی میں دیوار گرا نے سے
دنیا کی نظر میں تو بے لوث محبت تھی
اک چوٹ جفا کی پھر کیوں دھوکے سے کھا نے سے
امشب مجھے لگتا ہے میں جان لٹا دوں گی
اک شمع کی صورت جو تری یاد جلا نے سے
اس راہ جفا کش پر ، اس راہ تمنا میں
بے ساختہ لگتا ہے میں خود کو بھلا نے سے
یہ تیری عقیدت کا ، محبت کا فسانہ تھا
وشمہ میں جسے اپنے خوابوں میں بسانے سے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






