اف ری جوانی ہائے زمانے
Poet: Shad Azeem Abadi By: Bakhtiar Nasir, Lahoreایک ستم اور لاکھ ادائیں
اف ری جوانی ہائے زمانے
ترچھی نگاہیں تنگ قبائیں
اف ری جوانی ہائے زمانے
ہجر میں اپنا اور ہی عالم
ابر باراں دیدہ پرنم
ضد کہ ہمیں وہ آپ بلائیں
اف ری جوانی ہائے زمانے
اپنی ادا سے آپ کھٹکنا
اپنی ہوا سے آپ جھجھکنا
چال میں لغزش منہ پہ حیائیں
اف ری جوانی ہائے زمانے
ہاتھ میں آڑی تیغ پکڑنا
تاکہ لگے بھی زخم تو اوچھا
قصد کہ پھر جی بھر کے ستائیں
اف ری جوانی ہائے زمانے
کالی گھٹائیں٬ باغ میں جھولے
دھانی دوپٹے لٹ چھٹکائے
مجھ پہ یہ قدغن٬ آپ نہ آئیں
اف ری جوانی ہائے زمانے
پچھلے پہر اٹھ اٹھ کے نمازیں
ناک رگڑنی سجدے پہ سجدے
جو نہیں جائز اس کی دعائیں
اف ری جوانی ہائے زمانے
شاد نہ وہ دیدار پرستی
اور نہ وہ بے نشے کی مستی
تجھ کو کہاں سے ڈھونڈ کے لائیں
اف ری جوانی ہائے زمانے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






