افسوس کہ جینا پڑتا ہے

Poet: By: Hina, کراچی

جب درد بھرے ہے دھڑکن میں
اور آنکھیں ساون بھادوں ہوں
پھر یوں بھی تو جینا پڑتا ہے
ہر زخم چُھپانا پڑتا ہے
ہنس ہنس کے دِکھانا پڑتا ہے
اِک آگ سی دل میں لگتی ہے
ہر آن سُلگنا پڑتا ہے
دُنیا کے ریت رواجوں پر
اس دل کو مِٹانا پڑتا ہے
رسموں کو نِبھانا پڑتا ہے
سینے میں سُلگتے ہیں ارماں
ارمانوں کی زندہ قبروں پر
ہر خواہش نوحہ پڑھتی ہے
پر جی کے دِکھانا پڑتا ہے
اشکوں کو چھُپا کر آنکھوں میں
گھُٹ گھُٹ کے سسکنا پڑتا ہے
جیون کے ادھور ے سپنوں کو
دل میں ہی سُلانا پڑتا ہے
ایسے بھی تو جینا پڑتا ہے
ہر زہر کو پینا پڑتا ہے
مجبوراً جینا پڑتا ہے
افسوس کہ جینا پڑتا ہے

Rate it:
Views: 858
23 Oct, 2009
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL