افضل کے نام

Poet: گلزیب انجم By: گلزیب انجم , دبئ

 بچھڑا ہے جب سے تو,اُداس تب سے جہان لگتا ہے
تو نہیں تو , ویراں سارا گلستان لگتا ہے

عجیب سی کشمکش ہے اب کہ ہجر میں تیرے
تیر جگر میں تو لہو آنکھوں سے رواں لگتا ہے

مانا کے رہنا نہیں یہاں کسی کو سدا کے لیے
پھر ڈولتا ہوا کیوں یہ ایمان لگتا ہے

لوٹ آؤ کہ میں بتا نہیں پاتا کیفیت اس غم کی
کہنے میں کم جو سہنے میں طوفان لگتا ہے

جانے کیا بات تھی ایسی تجھ میں جسے اب
یاد کر کے ماتم کنعاں ہر پیر و جواں لگتا ہے

سینہ کوبی ہو گیا ہے مشغلہ اب لیل و نہار کا
سینہ میرا تو امام باڑہ اب تیرا مکاں لگتا ہے

دے کر واسطہ دوستی کا تجھے کہتا ہوں دوست
لوٹ آؤ کہ بن تیرے بہت اُداس اُداس عثمان لگتا ہے

Rate it:
Views: 559
25 Dec, 2014
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL