اقبال اور فیض
Poet: Hassan Kayani By: Hassan Kayani, Leeds (UK)اقبال تیرے ایمان افروز کلام کا شکریہ
فیض تیرے ایقان سے بھرپور الہام کا شکریہ
اقبال تو نے رموز خودی کو آشکار کیا
فیض تو نے رموز انقلاب کا پرچار کیا
اقبال ھمیشہ اجتہاد اسلامی کا علمبردار رھا
فیض ھمیشہ ظلم کے خلاف برسرپہکار رھا
اقبال تیری شاعری میں استاد پنہاں ھے
فیض تیرے کلام میں شاعر نمایاں ھے
اقبال نے الحاد کو بے نقاب کیا
فیض نے جھوٹ کو طشت از بام کیا
اقبال نے ذندہ دلی کو زندگی قرار دیا
فیض نےزندگی کے رنگوں کو اجاگر کیا
اقبال کو شاعر مشرق کہا گیا
فیض کو شاعر مغرب کہا گیا
اقبال حسن کردار پر زور دیتے رھے
فیض حسن گفتار کے داعی رھے
اقبال نے نظریہ پاکستان اور اتحاد ملت کا خواب دیا
فیض نے نظریہ مساوات اور آزادئ اظہار پہ خوب کہا
اقبال نے نشاتہ ثانیہ کے کارنامے بیان کیے
فیض نے حالات فردا کے اشارے عیاں کیے
اقبال نے اپنے شاھین کو تلاش جہان نو کا پیغام دیا
فیض نے جاگیردارانہ استحصال کے خلاف لڑنے کا پیام دیا
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






