اقبال کی بانی اور وقت کا پہیہ
Poet: قیصر مختار By: قیصر مختار, ہانگ کانگشکوہ ء ا ھل خِرد , درد مندانِ جہاں
مِٹ گئے جن کے نقوش وہ اھل زباں
قصّہء لالہ و گل میں مگن راقم داستاں
وہ مردانِ جری آج بھی ہیں شکوہ کناں
کیا ہوئی حسرت و فریاد کی کہانی یا رب
قصہء ارض و سما پہ اقبال کی بانی یارب
تیرے بندے کی وہ اُمّت اور اس کی اُٹھان
مردِ حُر خالد و عون اور وہ اھلِ ایمان
بات چل نکلی تو پھر سبھی نے دیکھا
حدّتِ ایمان سے پگھلے وہ قصریٰ کے محل
سُر چِھڑ ے اور مغنّی سبھی ساتھ ھوئے
غیرتِ ایمانی نے لکھی وہ مدھوش غزل
جس کے قِصّے پھر زبانِ زدِ عا م ھوئے
مردِ مومن پھر خدا سے ھم کلام ھوئے
گُل و لالہ و سرو سے وہ گُلستاں آباد ھوئے
جنکی خوشبو سے چہارعالم جہاں شاد ھوئے
پھر نہ جانے کہاں سے وہ جَھونکا آیا
اپنے ہمراہ ابدی خزاں کا اک تحفہ لایا
حکیمِ لا اُمّت نے پہچانی تھی جس کی نبض
جسم مُردہ ھُوا اور روح ہوئی اسکی قبض
ایک چُنگل سے جونِکلے تو پھنسے اَورسے اَور
پھر زمانے نے کئے و ہ ظلم ستم و جور
آج تک کا نپتی ھے روح مسلمانوں کی
چُھپ گئی ھے حرارت کہیں ایمانوں کی
و قت کے ساتھ ملا کر نہ چلا جو پہیّہ
خوابِ خرگوش میں کچھ بھی نہ ہوُا اسکو مہیا
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






