اقرارِ وفا
Poet: Syed Zulfiqar Haider By: Syed Zulfiqar Haider, Gujranwala (Pakistan) ; Nizwa (Oman)تیرے روبرو جو کہہ نہیں پاۓ بس سوچ ہی پاۓ
اک وہ بات بھی ہے ہونٹوں پر اپنے جو ہم نہیں لاۓ
خواہش تو ہے تم سے اقرارِ وفا کروں
تیرے انکار کے ڈر سے مگر اظہار کر نہیں پاۓ
کئی بار تجھ کو دل کا حال سنانا چاہا
دل میں ہے جو ہونٹوں کی زبان سے کہنا چاہا
اگرچہ جانے میری تڑپ کو بے قراری کو سمجھے
مسکرا کر بغیر کچھ کہے تڑپاتی ہوئی چلی جاۓ
جاگے جاگے سے کٹتی ہے رات آج کل
کروٹیں بدلتی کرب میں گزرے رات آج کل
سونا چاہوں اگرچہ سو نا پاؤں آج کل
صورت تیری نگاہوں میں ہے نیند آنکھوں میں پھر کیسے آۓ
میرے ساتھ ہو تو موسم دل کا سہانا ہو جاۓ
ساون کی گھٹا اُمنڈ آۓ تپشِ زمانہ دور ہو جاۓ
اک بار اگر مجھ سے چاہت کا وہ اقرار کر دے
شام سے سحر لوٹ آۓ زندگی سہل ہو جاۓ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






