الفاظ
Poet: م الف ارشیؔ By: Muhammad Arshad Qureshi (Arshi), Karachiمیرے لفظوں کو کون تولے گا
میں نہ بولوں تو کون بولے گا
قصہ میرا ہی جا بجا ہوگا
عشق کی جب کتاب کھولے گا
یادیں میری اسے ستائیں گی
اپنے دل کو وہ جب ٹٹولے گا
جانتا ہوں کہ جب ملے گا وہ
میری بانہوں میں خوب رولے گا
نغمہ میرا وہ جب سنے گا تو
اس کے کانوں میں رس یہ گھو لے گا
میری دنیا اجاڑنے والے
دل تو تیرا بھی روز ہولے گا
پانی سر سے گذر چکے گا جب
آنکھیں اپنی وہ جب ہی کھولے گا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






