اللہ جانے کیا ہوگا ذکر جو چلا ہے
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiاللہ جانے کیا ہوگا ذکر جو چلا ہے
آئی رات یاد لیکر فکر جو چلا ہے
تجھے ہے قسم اس کو کبھی نہ رلانا
سہارے کی انگلیاں پکڑ جو چلا ہے
خدا کرے کہ ان کو ٹھکانہ ملے کوئی
اپنی مرضی سے ہی مُکر جو چلا ہے
پھر اس تصور میں کیا تصویر پائیں
ٹھہرے پانی میں پتھر جو چلا ہے
ابکہ وہ خاموش بھی کیسے رہے گا
آنکھوں میں کچھ آنسو بھر جو چلا ہے
تیری گھر کی چؤکھٹ پر آ رکا تھا
کبھی جاگر دیکھئے کہ وہ کدھر کو چلا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






