الم میری کہانی ہے اداسی ہے زباں میری
Poet: داد بلوچ فورٹ منرو By: Dad Baloch, DG khanالم میری کہانی ہے اداسی ہے زباں میری
تمھیں افسردہ کر دے گی غموں کی داستاں میری
پڑے ہیں تیری آس امید پر ہی تیرے شیدائی
کبھی تو سن ہی لے گا آہ و فریاد آسماں میری
نہ ہوتی کاش اس کے ساتھ ملنے کی کوئی صورت
وہ دل بھی لے گئے ہیں لے گئے ہیں ساتھ جاں میری
نگاہِ مست میں کاجل جو پھیلے تو یقین آئے
سنا ہے درد دیتی ہے اسے آہ و فغاں میری
یہ دیکھا ہے کہ اکثر عشق میں ایسے بھی ہوتا ہے
کہیں جلتی ہو آتش ذات دیتی ہے دھواں میری
میں شہر ِ عشق کا محروم قسمت وہ مسافر ہوں
نہ بے داد بتاں میری نہ دادؔ دوستاں میری
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






