الوداعی ملاقات
Poet: مونا شہزاد By: Mona Shehzad, Calgaryہے مجھے یاد اب بھی وه ساون کی رات
تهی وه تجه سے میری الوداعی ملاقات
عکس ثبت ہے پتلیوں میں ابھی تک تیر
رلایا تها مجھے تیری بے کسی نے بارہا بار
بس وه اک زخمی نظر،شکستہ دل
برسی تهی میرے دل پر برسات کی باڑ
اک سناٹا سا گونجتا رہا ہم دونوں کے بیچ
پلٹ کر نہ پهر دیکھا تو نے مجھے اک بار
مجھے یاد ہے اب بھی وه تجھ سے بچھڑنے کی رات
بیٹهے بیٹھے چونک جاتی ہوں میں اکثر
پتا نہیں کیوں ہوتا ہے گماں تیری آمد کا بارہا بار
یہ میری سکون سے ہے کیسی لڑائی؟
آتی کیوں نہیں نیند مجھے ساری ساری رات؟
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






