اماوس میں اپنا قمر ڈھونڈتا ہوں
Poet: MeeR Hassan Khoso By: MeeR Hassan Khoso, JACOBABADکہیں کاش آئے نظر ڈھونڈتا ہوں
اماوس میں اپنا قمر ڈھونڈتا ہوں
جہاں ساتھ کوئی بھی دیتا نہیں ہے
اسی راہ پر ہمسفر ڈھونڈتا ہوں
جہاں نفرتوں کا نشاں تک نہ ہو میں
محبت کا ایسا نگر ڈھونڈتا ہوں
ابھی ابتدائے سفر ہی کیا ہے
ابھی انتہائے سفر ڈھونڈتا ہوں
ٹھکانا نہیں ہے کوئی ایک اسکا
میں ہو کے اسے دربدر ڈھونڈتا ہوں
میں خود کھو رہا ہوں اسے ڈھونڈنے میں
اندھیرا ہے ہر سو سحر ڈھونڈتا ہوں
بہت دھوپ ہے میرے جیون سفر میں
نہیں کوئی سایہ شجر ڈھونڈتا ہوں
بہت غم ملے ہیں اسی جستجو میں
دکھوں میں خوشی کا پہر ڈھونڈتا ہوں
مقدر کی راتیں مسلسل عیاں ہیں
مقدر کا کوئی سحر ڈھونڈتا ہوں
کبھی میر~ میں نے جنون_سفر میں
جو چھوڑا تھا اپنا، وہ کھر ڈھونڈتا ہوں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






