اماوس میں اپنا قمر ڈھونڈتا ہوں

Poet: MeeR Hassan Khoso By: MeeR Hassan Khoso, JACOBABAD

کہیں کاش آئے نظر ڈھونڈتا ہوں
اماوس میں اپنا قمر ڈھونڈتا ہوں

جہاں ساتھ کوئی بھی دیتا نہیں ہے
اسی راہ پر ہمسفر ڈھونڈتا ہوں

جہاں نفرتوں کا نشاں تک نہ ہو میں
محبت کا ایسا نگر ڈھونڈتا ہوں

ابھی ابتدائے سفر ہی کیا ہے
ابھی انتہائے سفر ڈھونڈتا ہوں

ٹھکانا نہیں ہے کوئی ایک اسکا
میں ہو کے اسے دربدر ڈھونڈتا ہوں

میں خود کھو رہا ہوں اسے ڈھونڈنے میں
اندھیرا ہے ہر سو سحر ڈھونڈتا ہوں

بہت دھوپ ہے میرے جیون سفر میں
نہیں کوئی سایہ شجر ڈھونڈتا ہوں

بہت غم ملے ہیں اسی جستجو میں
دکھوں میں خوشی کا پہر ڈھونڈتا ہوں

مقدر کی راتیں مسلسل عیاں ہیں
مقدر کا کوئی سحر ڈھونڈتا ہوں

کبھی میر~ میں نے جنون_سفر میں
جو چھوڑا تھا اپنا، وہ کھر ڈھونڈتا ہوں

Rate it:
Views: 548
28 Feb, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL