امی کی یاد میں
Poet: Yasmin Elahi By: Yasmin Elahi, Karachiامی کی یاد میں
اے ماں ترا خاموش سی ہستی میرے لئے
کسی نعمت کسی دولت سے نئیں تھی کم
ترے سیے سے جو اٹھتی ممتا کی مہک
دل کے زخموں ک وہ مرحم سے نہیں تھی کم
کیا ہوا خاموش اگر تو رہتی تھی
مرے دکھوں کا تھا بوجھ ترے دل بہ
تو سمجھتی تھی مری زیست ہے کتنی مشکل
درد مرا تو سہتی تھی ابنے دل بہ
مرے ہر دکھ کو تو یوں محسوس کیاکتی تھی
دور ہو کے بھی تو دور نہیں تھی مجھ سے
بے زبانی کی زباں میری سمجھتی تھی تو یوں
جانتی تھی تو وہ جو کبھی میں نے کہا نہ تجھ سے
دوریاں تجھ اور مجھ میں بہت تھیں لیکن
مظترب میں تھی یہاں تو تو بےچین وہاں
ٹھےس لگتی تھی ادھر ٹیس اٹھتی تھی ادھر
زخم لگتا تھا یہاں درد ہوتا تھا وہاں
میں نے سوچا تھا تو جب بھی ملئگی مجھ کو
ہوئے جو مجھ پہ ستم یہ میں بتاونگی تجھے
ترے ممت بھرے سینے مےں چھپا کہ چہرہ
خوب رؤنگی میں اور خوب رلاؤنگی تجھے
اپنے نرم سے ہاتھوں سے تو پوچھےگی مرے اںسو
یوں بڑے پیار سے دیگی تو تسلی مجھ کو
نہ رو بیٹی میری ابھی تو میں زندہ ہوں
اپنے ممتا بھرے اںچل میں سمو لیگی مجھ کو
لیکن ایسا نہ ہوا تو بھی مجھے چھوڑ گئی
دھوپ عم کی ہے کڑی اور ترا سایہ بھی نہیں
ترے جانے سےزخم مرے یوں چیخ اٹھے
ان دکھن جو کرے کم کوئ مرحم ہی نہیں
غم کی راہوں میں کو ئ اور سہارا تو نہ تھا
تجھ سے ملنے کی امید ہی کافی تھی مجھے
زیست پہلے بھی مجھ کو کوئ اسان نہ تھی
ترے جانے سے یہ مشکل اور بھی مشکل ہے مجھے
میرے اشکوں کو ہے حاجت ترے دامن کی
دل کے زخموں کو ے ممتا کے مرحم کی طلب
یوںمصیبت میں تنہا مجھے کیوں چھوڑ گئی
کچھ تو بتلا مجھے یوں موںھ پھیر کے جانے کاسبب
درد سہہ کر مجھے ہنسنا تھاسکھایا تو نے
ہر قدم پرمیری ہمت کو بڑھایا تو نے
سر اٹھا کے مجھے جینا تھا سکھایا تو نے
بن تیرے کیسے جیوں یہ نہ بتایا تو نے
کسی کی بزمِ ناز سے اٹھا دیئے گئے تو کیا
خلوص کا مزہ گیا، دہی بنا ہے پیار کا
کسی نے کھو دیا کسی کو لا دیئے گئے تو کیا
ہمیں ذرا بھی خوف سا رہا نہیں ہے خار کا
ہٹا دیئے گئے تو کیا، بچھا دیئے گئے تو کیا
ستم تو دیکھیے ہمیں مہک پہ دست رس نہیں
اسیرِ زلفِ یار بھی بنا دیئے گئے تو کیا
ملی حیات کو نجات کل کی تیرگی سے تو
وفا کی راہ میں ہزار ہا دیّے گئے تو کیا
ہمیں کمالِ ضبط بھی عطا کِیا گیا تو ہے
ستم، ستم کے بعد ہم پہ ڈھا دیئے گئے تو کیا
ملی اگر خوشی کبھی لگا کہ بھول سے ملی
تعاقبوں میں اس پہ غم لگا دیئے گئے تو کیا
کبھی تو ایک دن الگ رہے تو زیست بار تھی
نہ تھے جو بیچ فاصلے بڑھا دیئے گئے تو کیا
رشیدؔ رفعتوں میں ہے کوئی جو دیکھتا ہے سب
گئے دنوں کے درد پھر جگا دیئے گئے تو کیا
مگر میرے پاؤں میں بیڑیاں خاندانی حرمت کی ہیں۔
دل کو قفس سے آزاد کرتے ہوئے، میرے ستمگر کو یہ خیال نہ رہا،
کہ شاید دل میں محبت کی رمق اب بھی باقی ہے۔
میرے بیزارِ محبت کو گمان ہے میرے دل کے کارآمد ہونے پر،
وار اسی لیے وہ کرتا ہے میرے آرامیدہ ہونے پر۔
ہنر ہے میرا کہ میں نے اس کو اب تک سنوار کر رکھا ہے،
ورنہ یہ زخمی و آزردہ دل کب کا مر چکا ہے۔
دل کو اب تک وہ محبت کا فسانہ یاد ہے
وہ گلی وہ شام وہ چہرے وہ ہنسی کے قافلے
آج بھی آنکھوں کو سب کچھ دل کا افسانہ یاد ہے
وقت کی آندھی نے سب نقش مٹا ڈالے مگر
دل کی دیواروں پہ تیرا وہ ٹھکانہ یاد ہے
ہم نے سوچا تھا کہ بھولیں گے تجھے اک دن کبھی
پر ہمیں ہر موڑ پر تیرا بہانہ یاد ہے
کچھ تعلق وقت کے ہاتھوں بچھڑ جاتے ہیں مگر،
دل کو ہر رشتہ، ہر اک گزرا زمانہ یاد ہے
اب بھی تنہائی میں جب چاند نکل آتا ہے
تیری باتوں کا وہ پیارا سا خزانہ یاد ہے
زندگی آگے تو بڑھتی ہی رہی مسعود مگر
دل کو بچپن دل کو وہ گزرا زمانہ یاد ہے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم






