ان آنکھوں میں دل کا قرار رہتا ہے
Poet: Ahmad Faisal Ayaz By: Ahmad Faisal Ayaz, Hafizabadان آنکھوں میں دل کا قرار رہتا ہے
در طبیب پہ جانا بے کار رہتا ہے
کرتے رہیں جو تم سے پیار سو کیا
کرنا چاہا تھا کبھی جو پیار رہتا ہے
اس دل کے مسیحا سے کوئی جا کر کہے
دل دھڑکتا تھا کبھی جو بیمار رہتا ہے
دانستہ تو یہ لب نہ کھولے تو اور بات
ہروقت ان پہ مچلتا اک اظہار رہتا ہے
اس شخص کو پیار کی حدیں نہ سمجھا
وہ شخص جو ہر حد سے پار رہتا ہے
ساری رات ہی آہیں بھرتا ہے دل
سر شام سے ہی تیرا انتظار رہتا ہے
ٹھکانا بدلا نہ اپنا خواہ مٹ گیا میں
عیاز رہتا تھا جہاں وہاں مزار رہتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






