ان چاہتوں کا چھو لیں پھر آسمان ہم تم
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلاان چاہتوں کا چھو لیں پھر آسمان ہم تم
آؤ نا بھر کے دیکھیں اونچی اڑان ہم تم
جیسی بھی تہمتیں ہوں ، جیسی بھی ہو عدالت
انصاف کا ہی دیں گے ہر اک بیان ہم تم
سانسوں کا یہ خزانہ کالج ہے زندگی کا
مل جل کے پاس کر لیں ہر امتحان ہم تم
جب تک ہماری کشتی منزل پہ جا نہ پہنچے
چھوڑیں گے تب تلک نہ یہ بادبان ہم تم
نیزوں پہ سر سجائیں ،چراغاں کریں لہو سے
دنیا میں چھور جائیں اپنا نشان ہم تم
گزرے دنوں کے قصے ماضی کا آئینہ ہیں
ہر راستے پہ ہوں گے اب ایک جان ہم تم
ہر سمت ہو محبت ، خوشیاں ہوں ، زندگی ہو
وشمہ جی مل کے ڈھونڈیؔں ایسا جہان ہم تم
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






